بنگلورو،15/مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی)کرناٹک انتخابات میں زبردست اکثریت سے جیت کے بعد کانگریس کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگلا وزیر اعلیٰ کون ہوگا؟بنگلورکے کانگریس آفس میں منعقد لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ میں یہ فیصلہ نہیں ہوسکاکہ کس کے سرسجے گا وزیراعلیٰ کا تاج؟سدرامیا،ڈی کے شیوکمار یاکسی تیسرے شخص کے سر؟میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ لیاگیاکہ آخری فیصلہ قومی صدر ملکارجن کھرگے کریں گے۔ فی الحال، سدرامیا اور ڈی کے شیوکمار وزیر اعلیٰ کی دوڑ میں سب سے آگے بتائے جا رہے ہیں۔میٹنگ میں کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ وہ سابق صدرسونیا اورراہل گاندھی سے ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ کے نام کا اعلان کریں گے۔ دونوں لیڈروں کے حامیوں نے زمین پر ماحول بنانا شروع کر دیا ہے۔آفس کے باہر خوب نعرے لگ رہے ہیں۔البتہ خبریہ آرہی ہے کہ حلف برداری جمعرات بتاریخ 18مئی ہوگی۔ایک طرف ڈی کے کے حامی پوسٹر لگا رہے ہیں جس میں زور دے رہے ہیں کہ وہ اس بار وزیر اعلیٰ بنیں، وہیں دوسری طرف سدرامیا کے بیٹوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے والد کو دوبارہ وزیر اعلیٰ بنتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یعنی دونوں طرف عزائم کا زبردست ٹکراؤ ہے، اب تاج کس کو ملتا ہے، اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔شیوکماراور سدرامیا پیرکی صبح دہلی طلب کئے گئے ہیں۔ رندیپ سرجے والا اور کے سی وینوگوپال بھی دہلی پہنچ رہے ہیں۔امید کی جارہی ہے کہ پیر کو ہی وزیراعلیٰ کے نام کااعلان کردیا جائے گا۔ توقع ہے کہ کانگریس جلد ہی وزیراعلیٰ کے نام پر مہر لگا سکتی ہے۔ اس سب کے درمیان کرناٹک میں پارٹی کے سینئر لیڈر ڈی کے شیوکمار نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہاہے کہ میں نے پارٹی کیلئے کئی بار قربانیاں دی ہیں۔اس کے معنی صاف ہیں کہ وہ وزیراعلیٰ کے مضبوط دعویدار ہیں۔